جسم میں دوا پہنچانے والا ’ کیٹر پِلر روبوٹ‘

Spread the love

ہانگ کانگ: 

جسم میں مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے انجینئرز نے سخت جان اور مؤثر کیٹرپِلر روبوٹ بنایا ہے جو اپنے سے 100 گنا وزن اٹھا کر مطلوبہ مقام تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے  تاہم اس روبوٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو پہلے اسے نگلنا ہوگا۔

یہ چھوٹا سا روبوٹ اتنا طاقتور ہے کہ اگر اتنا ہی قوی کسی انسان کو بنادیا جائے وہ بہت آرام سے 26 سیٹوں والی ایک بس اٹھاسکتا ہے۔ کیٹرپِلر روبوٹ جسم کے اندر ہر قسم کے ناموافق حالات میں بھی رینگتا رہتا ہے۔ اس کی ٹانگیں باریک بالوں کی طرح ہیں اور ہر ایک کی لمبائی ایک ملی میٹر سے چھوٹی ہے۔

سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے شین یاجِنگ اور ان کے ساتھیوں نے یہ روبوٹ بنایا ہے جس کے نوکیلے پاؤں سطح کو بہت کم چھوتے ہیں اور یوں زیادہ رگڑ پیدا نہیں ہوتی۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اگر یہ روبوٹ کسی پٹی کی صورت میں نوکیلے پاؤں کے بغیر بنایا جاتا تو کیٹرپلر کے مقابلے میں 40 گنا زیادہ رگڑ پیدا ہوتی یعنی پاؤں نے اس مزاحمت کو کئی گنا کم کردیا خواہ یہ خشکی میں چلے یا پھر نمی والے ماحول میں دوڑایا جائے۔

ماہرین نے اسی کے ساتھ ایک اور ٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے جو جسم کے ان مشکل مقامات کی نشاندہی کرتی ہے جہاں آپریشن کی بجائے کسی اور دوسرے طریقے سے پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

روبوٹ کیڑے کے جسم کے مقابلے میں اس کے ننھے منے پاؤں کو تیار کرنا بہت مشکل عمل تھا۔ اسے ایک خاص قسم کے سلیکانی مٹیریل سے بنایا گیا جسے پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین (پی ڈی ایم ایس) کا نام دیا گیا ہے جس پر مقناطیسی ذرات لگے ہیں۔ مقناطیسی ہونے کی وجہ سے یہ روبوٹ بیرونی مقناطیسی نظام کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

تمام تر ادویاتی ترقیوں کے باوجود کینسر اور کئی بیماریوں کی دوا کو مقررہ مقام پر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ معدے کی تیزابیت کئی ادویہ کا اثر زائل کردیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دوا کو اس کے اصل مقام تک پہنچانے میں ہی شفا ہوتی ہے خواہ وہ دماغ ہو یا کوئی آنت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0 Comments
scroll to top